جسٹس عیسیٰ کیس: ریفرنس میں بدنیتی ثابت ہوئی تو کیس خارج ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ


سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست پر معاملہ زیر سماعت ہے اور آج کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر ریفرنس میں بدنیتی ثابت ہوئی تو کیس خارج ہو سکتا ہے۔

 

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، اس دوران حکومت کی جانب سے فروغ نسیم نے دلائل دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

آج (منگل) کو سماعت کے آغاز پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فروغ نسیم آج کفالت پر دلائل دیں گے، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں آج پبلک ٹرسٹ اور ججز کی معاشرے میں حیثیت پر دلائل دوں گا۔

سرکاری ملازم اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصر ہو تو کیا ہوگا، جسٹس منصور
اس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ آپ اپنے نکات پر دلائل دیں، ہم ججز کے احتساب سے متفق ہیں، درخواست گزار نے بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے شواہد اکٹھے کرنے کا الزام لگایا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس میں قانونی نقائص موجود ہیں، عمومی مقدمات میں ایسی غلطی پر کیس خارج ہو جاتا ہے،اگر ریفرنس میں بدنیتی ثابت ہوئی تو کیس خارج ہو سکتا ہے، ابھی تک ریفرنس میں کئی خامیاں موجود ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لندن کی جائیدادوں کی ملکیت تسلیم شدہ ہے، مقدمے میں سوال جائیداد کی خریداری کا ہے، درخواست گزار نے جائیدادوں کے وسائل خریداری بتانے سے بھی انکار نہیں کیا۔

Previous یقین رکھیں اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے، حمزہ علی عباسی
Next اسلام آباد، پشاور سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں زلزلہ

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *